‏علم کا بیان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏علم کا بیان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل

امام کا اپنے ساتھیوں کی علمی آزمائش کے لیے سوال کرنا۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کا پت جھڑ نہیں ہوتا اور وہ مسلمان کے مشابہ ہے، تو تم مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ تو لوگ جنگلی درختوں (کے خیال) میں پڑ گئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں (کہتے ہوئے) شرما گیا، بالآخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ہی ہمیں بتائیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 56
blogger

جو شخص علم (کو بیان کرنے) میں اپنی آواز بلند کرے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک سفر میں جو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس حال میں ملے کہ نماز میں ہم نے دیر کر دی تھی اور ہم وضو کر رہے تھے تو (جلدی کی وجہ سے) ہم اپنے پیروں پر پانی لگانے لگے (کیونکہ دھونے میں دیر ہوتی) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بلند آواز سے دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا: ایڑیوں کو آگ کے (عذاب) سے خرابی (ہونے والی) ہے (یعنی خشک رہنے کی صورت میں)۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 55
blogger

باب: (حدیث کا خود) پڑھنا اور (پڑھ کر) محدث کو سنانا۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص اونٹ پر (سوار) آیا اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں (لا کر) بٹھا کر اس کے پاؤں باندھ دیے پھر اس نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟ اور (اس وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے، تو ہم لوگوں نے کہا یہ مرد صاف رنگ تکیہ لگائے ہوئے (جو بیٹھے ہیں انہی کا نام نامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے)۔ پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کہہ) میں سن رہا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے (کچھ) پوچھنے والا ہوں اور (پوچھنے میں) آپ پر سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناخوش نہ ہونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے پوچھ لے۔ وہ بولا کہ میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر پوچھتا ہوں (سچ بتائیے) کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہاں (بیشک مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے)۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائیے) کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائیے) کیا اس مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائیے) کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مالداروں سے لیں اور اسے ہمارے مستحقین پر تقسیم کریں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہاں۔ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس (شریعت) پر ایمان لایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کا جو میرے پیچھے ہیں، بھیجا ہوا (نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہوں (قبیلہ) بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
 صحیح بخاری
حدیث نمبر: 57
blogger