اتوار

رمضان المبارک میں موسیقی سننا

کیا روزہ کی حالت میں موسیقی سننا حرام ہے ؟
الحمد للہ
موسیقی تو ہرحالت میں سننا حرام ہے چاہے وہ رمضان میں ہو یا عام حالت میں ، لیکن اتنا ہے کہ رمضان المبارک میں تو اس کی حرمت اورشدید ہوجاتی ہے اورگناہ بھی بڑھ جاتا ہے ، کیونکہ روزے کامقصد یہ نہيں کہ صرف کھانے پینے سے رکا جائے ، بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالی کا تقوی اختیار کیا جائے اور روزہ میں اعضاء کا روزہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی معصیت سے اجتناب کریں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گۓ تھے ، تا کہ تم تقوی اختیار کرو } البقرۃ (183 )
اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( کھانے پینے سے رکنے کا نام روزہ نہيں ، بلکہ روزہ تو لغواوربرے کاموں اورباتوں سے بچنے کا نام ہے ) اسے امام حاکم نے روایت کیا اوراسے مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے ۔ ا ھـ
مزید تفصیل کے لیے آپ سوال نمبر ( 37989 ) کے جواب کا مطالعہ کریں
سنت نبویہ سے صراحتا موسیقی کی حرمت ثابت ہوتی ہے ، مندرجہ ذيل حدیث بھی اسی پر دلالت کررہی ہے :
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے تعلیقا روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جوزنا اورریشم ، شراب اورموسیقی وغیرہ کوحلال کرلیں گے ۔۔۔ ) امام طبرانی اوربیھقی نے اس حدیث کو موصول بیان کیا ہے ۔
حدیث میں الحر سے زنا مراد ہے ۔
اورالمعازف سے مراد موسیقی کے آلات ہیں ۔
اس حدیث سے دو وجوہ کی بنا پر آلات موسیقی کی حرمت ثابت ہوتی ہے :
اول : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ( حلال کرلیں گے ) یہ اس بات کی صراحت ہے کہ اشیاء مذکورہ حرام ہیں اورکچھ لوگ انہيں حلال کرلیں گے ۔
دوم : المعازف یعنی موسیقی کے آلات کو زنا اورشراب کے ساتھ ملا کرذکر کیا ہے جن کی حرمت قطعی ہے ، اگر وہ حرام نہ ہوتیں تو آپ اسے ان کےساتھ ملا کر ذکر نہ کرتے ۔
دیکھیں السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی حدیث نمبر ( 91 ) ۔
مومن اورمسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس مبارک ماہ کے قریب ہو اوراس ماہ میں اپنے رب کا قرب اختیار کرے اوراللہ تعالی کے سامنے توبہ کرتے ہوئےان سب حرام کاموں سے باز آجائے اوراجتناب کرے جن کی اسے رمضان سے قبل عادت تھی ، توہوسکتا ہے پھر اللہ تعالی بھی اس کےروزے قبول فرمائے اوراس کی حالت سنوار دے اوراس کی اصلاح کردے ۔
واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
blogger

رمضان المبارك شروع ہونے كى مباركباد دينى

كيا رمضان المبارك شروع ہونے كى مباركباد دينا جائز ہے، يا يہ بدعت شمار ہوتى ہے ؟


الحمد للہ:
رمضان المبارك شروع ہونے كى مباركباد دينے ميں كوئى حرج نہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے صحابہ كرام كو رمضان المبارك آنے كى خوشخبرى ديتے اور انہيں اس كا خيال ركھنے پر ابھارتے تھے.
ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تمہارے پاس بابركت مہينہ آيا ہے، اللہ تعالى نے اس كے روزے تم پر فرض كيے ہيں، اس ميں آسمان كے دروازے كھول ديے جاتے ہيں، اور جہنم كے دروازے بند كر ديے جاتے ہيں، اور سركش قسم كے شياطين پابندسلاسل كر ديے جاتے ہيں، اس ميں ايك رات ايسى ہے جو ايك ہزار راتوں سے بہتر ہے جو اس كى بھلائى اور خير سے محروم كر ديا گيا تو وہ محروم ہے"
سنن نسائى ( 4 / 129 ) صحيح الترغيب ( 1 / 490 ).
واللہ اعلم .

الله تعالیٰ ہم سب کو اس بابرکت مہینے میں زیادہ زیادہ  سے نیک عمال کرنے کی توفیق دے آمین سومه آمین.
blogger

پیر

رمضان ميں دن كے وقت رحم كا چيك اپ كرانے كے ليے ايكسرے كرانا

ميں پندرہ برس كى ہوں اور آخرى تين ماہ مجھے ماہوارى منظم طريقہ سے نہيں آئى، اور اب رمضان سے دو يوم قبل تو تقريبا ميں چھ ہفتوں سے حيض كى حالت ميں ہوں، اور خون بند نہيں ہو رہا، يقينا يہ خون استحاضہ كا ہے حيض كا نہيں جيسا كہ ڈاكٹر كہتى ہے. 
اس كا سبب ليڈى ہارمون ميں مشكلات ہے، ليڈى ڈاكٹر نے مجھے الٹر ساؤنڈ كرانے كا كہا ہے تا كہ ميرے سپرم چيك كيے جا سكيں كہ ان كى حالت كيا ہے، اور يہ چيك اپ تقريبا پندرہ رمضان المبارك صبح كے وقت ہو گا، مشكل يہ ہے كہ مجھے اس دن روزہ نہيں ركھنا كيونكہ الٹرساؤنڈ سے قبل مجھے پانى ضرورى پينا ہوگا. 
ميرا سوال يہ ہے كہ: آيا ميرے ليے يہ چيك كرانا صحيح ہے يا كہ ميں رمضان كے بعد كراؤں ؟ اور اگر رمضان كے بعد تك مؤخر نہيں كرتى تو كيا ميں گنہگار ٹھروں گى ؟ يہ علم ميں رہے كہ ڈاكٹر سے ٹائم ملنا بہت مشكل ہے اور مجھے يہ ٹيسٹ كرانے كے ليے تقريبا ايك ماہ انتظار كرنا ہو گا ؟
الحمد للہ:
اول:
مريض كے ليے رمضان البمارك ميں روزہ چھوڑنا جائز ہے اور جتنے روزے چھوڑے بعد ميں ركھ سكتا ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور جو كوئى بھى مريض ہو يا مسافر تو وہ دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرے، اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگى نہيں كرنا چاہتا }البقرۃ ( 185 ).
استحاضہ اور مسلسل خون آنا ايك قسم كى بيمارى ہے اور يہ نفس اور بدن پر اثرانداز ہو سكتى ہے، اس ليے جس كا علاج كراناضرورى ہے اس كا چيك اپ كرانے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے يہ رمضان المبارك ميں دن كے وقت ہى كرانا پڑے ليكن بہتر ہے كہ اسے رات تك مؤخر كر ديا جائے.
اور يہ معلوم ہونا چاہيے كہ يہ چيك اپ اور الٹرا ساونڈ كرانے سے روزہ نہيں ٹوٹتا جب تك كہ مريض منہ يا ناك كے راستے كوئى دوائى نہ كھائے.
روزہ توڑنے اور نہ توڑنے والى اشياء كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 2299 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.
اور اگر يہ چيك اپ كوئى دوائى يا پانى نوش كرنے كا محتاج ہے، اور يہ فجر سے قبل نوش كرنى ممكن ہو تو آپ ايسا كر ليں، وگرنہ آپ كے ليے روزہ نہ ركھنا بھى جائز ہے.
دوم:
اكثر علماء كے ہاں حيض كى زيادہ سے زيادہ مدت پندرہ يوم ہے، اس سے زائد نہيں ہو سكتى.
اس بنا پر ليڈى ڈاكٹر نے آپ كو جو كہا ہے وہ صحيح ہے كہ آپ كو آنے والا خون استحاضہ كا خون ہے حيض كا نہيں، استحاضہ كے خون كا حكم جاننے كے ليے اور يہ معلوم كرنے كے ليے كہ آنے والا خون كب حيض كا خون ہوتا ہے آپ سوال نمبر ( 68818 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
واللہ اعلم .

blogger

رمضان المبارك ميں قرآن مجيد كى تلاوت كا وقت نہيں ملتا

رمضان المبارك كى مباركباد قبول فرمائيں، رمضان شروع ہوتے وقت ميں نے اپنے ساتھ وعدہ كيا تھا كہ قرآن مجيد ختم كرونگا، ليكن افسوس ميں صبح چھ بجے اٹھتا ہوں اور ساڑھے پانچ بجے گھر واپس لوٹتا ہوں، اور افطارى كے بعد ہمت نہيں ہوتى تو رات دس بجے تك سوتا ہوں، اور پھر سحرى تك بيدار رہتا ہوں، تقريبا سويا ہى ہوتا ہوں بارہ بجے تك سو جاتا ہوں تا كہ صبح اٹھ سكوں، برائے مہربانى يہ بتائيں كہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:
ہم بھى آپ كو رمضان كريم كى مبارك ديتے ہيں، اور اللہ سے دعا كرتے ہيں كہ وہ اپنا ذكر و شكر اور اچھى طرح عبادت كرنے ميں معاونت فرمائے.
مسلمان شخص سے مطلوب يہ ہے كہ وہ دنيا و آخرت كى مصلحت اكٹھى اور جمع كرے، نہ تو وہ ان افراد ميں شامل ہو جو دنيا اس دليل سے چھوڑ ديتے ہيں كہ وہ آخرت چاہتے ہيں اور اپنى دنيا خراب كر ليتے ہيں.
اور نہ ہى ان ميں شامل ہو جو آخرت كو چھوڑ كر دنيا كى طرف ہى دوڑ پڑتے ہيں.
بلكہ دنيا سے مقصود يہ ہے كہ اس سے آخرت كا زاد راہ تيار كيا جائے، كيونكہ دنيا دار قرار نہيں، بلكہ يہ تو ايك راستہ ہے جس سے انسان نے گزر كر آخرت كى طرف جانا ہے.
لہذا عقلمند مومن وہى ہے جو اس دار آخرت ميں جانے كى تيارى كرتا ہے، اسى ليے جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عقلمند كے بارہ ميں دريافت كيا گيا كہ:
" لوگوں ميں سب سے عقل و دانش والا شخص كون ہے ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
جو موت كو سب سے زيادہ ياد كرتا ہو، اور اس كى سب سے زيادہ تيارى كرے "
اسے امام طبرانى نے روايت كيا ہے، اور علامہ منذرى نے الترغيب و الترھيب ( 4 / 197 ) اور الھيثمى نے مجمع الزوائد ( 10 / 312 ) ميں حسن قرار ديا ہے.
اور الاحياء كى احاديث كى تخريج ميں علامہ عراقى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس كى سند جيد ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے الترغيب ( 1964 ) ميں ضعيف كہا ہے.
ديكھيں: الاحياء ( 5 / 194 ).
اس ليے رحلت كے دن يعنى موت كے ليے تيارى كرنا ضرورى ہے، كيونكہ يہ تو ايك عارضى ٹھكانہ ہے، اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں اپنى رحمت ميں جمع كرے.
اس ليے مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ دنيا و آخرت دونوں كے عمل جمع كرے، كيونكہ انسان كو رہائش كى ضرورت ہے، اور مال كى بھى اور لباس كى بھى، اور اسى طرح كھانے پينے كى بھى تا كہ وہ زندہ رہے، اور اسے صحيح ايمان اور عقيدہ كى بھى ضرورت ہے، اور نماز روزہ كى بھى، اور اللہ كا ذكر كرنے كى بھى، اور قرآن مجيد كى تلاوت كرنے كى بھى اور اسى طرح لوگوں كے ساتھ حسن سلوك كرنے كى بھى..... تا كہ وہ اپنے دل كو زندہ ركھ سكے.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اے ايمان والو! اللہ تعالى اور اس كے رسول كى بات مانو جب وہ تمہيں اس كى طرف بلائيں جو تمہيں زندہ ركھنے كا باعث ہے }الانفال ( 24 ).
لہذا مسلمان رمضان اور رمضان كے علاوہ قرآن مجيد كى تلاوت كرنے كا محتاج ہے، اسے چاہيے كہ وہ روزانہ قرآن مجيد كى كچھ تلاوت كيا كرے، تا كہ زيادہ سے زيادہ چاليس يوم ميں قرآن مجيد ختم كر لے.
ليكن رمضان المبارك ميں تو اس سے بھى زيادہ مطلوب ہے كيونكہ يہ افضل مہينہ اور اطاعت اور قرآن مجيد كى تلاوت كا موسم ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{ رمضان وہ مہينہ ہے جس ميں ہم نے قرآن مجيد نازل فرمايا }البقرۃ ( 185 ).
اس ليے آپ اپنے پورے دن ميں سے ايك گھنٹہ قرآن مجيد كى تلاوت كے ليے نكال سكتے ہيں جس ميں دو پاروں سے زيادہ قرآن مجيد كى تلاوت ہو سكتى ہے، اس طرح آپ ماہ رمضان ميں دو يا تين بار ختم كر سكتے ہيں.
اس طرح آپ مواصلات ميں جو وقت گزارتے ہيں اس سے بھى مستفيد ہو سكتے ہيں، قرآن مجيد آپ كے ساتھ ہونا چاہيے اس طرح آپ اس قليل سے وقت ميں كئى بار قرآن مجيد ختم كر سكتے ہيں، يا پھر ملازمت ميں آپ اپنے مالك سے يہ طے كر سكتے ہيں كہ وہ آپ كى ڈيوٹى ميں كچھ كمى كر دے چاہے اس سے وہ تنخواہ كم كر لے، اللہ تعالى آپ كواس كا نعم البدل عطا فرمائيگا.
اور يہ بھى ممكن ہے كہ آپ آخرى عشرہ كى چھٹياں حاصل كر ليں، يا دس نہيں كم چھٹياں لے ليں، بہر حال آپ اس ماہ مبارك سے فائدہ حاصل كريں، جتنى استطاعت و طاقت ہے اس كے مطابق عمل كريں، اور پھر فرصت موجود ہے، اور دن باقى ہيں اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ اطاعت كى توفيق دے.
اور اگر ڈيوٹى ميں كمى نہيں ہو سكتى يا پھر آپ چھٹى نہيں لے سكتے تو آپ بقدر استطاعت وقت سے فائدہ اٹھائيں جب اللہ تعالى جان لےگا كہ آپ قرآن مجيد كى تلاوت كى حرص ركھتے ہيں اگر كام نہ ہوتا تو ضرور كرتے، تو ان شاء اللہ اللہ تعالى آپ كو ضرور ثواب سے نوازےگا، جس قدر آپ كى نيت ہو گى اسى قدر ثواب بھى ملےگا.
اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو ايسے عمل كرنے كى توفيق دے جنہيں وہ پسند كرتا ہے اور جن سے راضى ہوتا ہے.
واللہ اعلم .
blogger

فوت شدہ پر رمضان ميں دن كے وقت جماع كا كفارہ ہونے كى صورت ميں اولاد كيا كرے ؟

ميرے والد صاحب فوت ہو چكے ہيں اللہ ان پر ر حم كرے اور ان كا مال بھى ورثاء ميں تقسيم ہو چكا ہے، ميرى والدہ نے مجھے بتايا كہ آپ كے والد نے پچيس تيس برس قبل ميرے ساتھ رمضان المبارك ميں دن كے وقت ہم بسترى كر لى تھى، اور والدہ اس پر موافق نہيں تھى، والدہ نے مجھے يہ اس وقت بتايا جب وہ آپريشن كے بعد ہاسپٹل سے باہر آ رہى تھيں.
انہوں نے مجھے بتايا كہ ميں نے آپ كے والد كو كہا تھا كہ ايسا كرنا جائز نہيں، اسے چاہيے كہ وہ اس كے متعلق دريافت كرے، تو آپ كے والد نے كہا كہ اس نے توبہ كر لى ہے اور اللہ غفور رحيم ہے.
والدہ كہتى ہيں كہ شرم و حياء كى بنا پر انہوں نے نہ تو سوال دريافت كيا اور نہ ہى ہميں بتايا، والدہ اس كے كفارہ ميں دو ماہ كے روزے ركھنا چاہتى ہے ميں نے انہيں بتايا كہ اس واقعہ ميں ان كا كوئى قصور اور گناہ نہيں اس ليے آپ پر كچھ لازم نہيں آتا، اس كے علاوہ يہ بھى ہے كہ والدہ كى صحت بھى ايسا كرنے كى اجازت نہيں ديتى، لہذا آپ بتائيں كہ ہمارى والدہ پر كيا لازم آتا ہے، اور ہمارے فوت شدہ والد كے متعلق اولاد ہونے كے ناطے ہم پر كيا لازم آتا ہے ؟
الحمد للہ:
اول:
اگر تو آپ كى والدہ كو رمضان المبارك ميں دن كے وقت جماع پر مجبور كيا گيا اور خاوند نے اسے ہم بسترى پر مجبور كيا تو آپ كى والدہ پر كفارہ نہيں ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" بلاشبہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرى امت سے خطا و بھول چوك اور جس پر انہيں مجبور كيا گيا ہو معاف كر ديا ہے "
سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2043 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
ليكن اگر آپ كى والدہ اس پر راضى تھى تو اس پر بھى روزے كى قضاء اور كفارہ ہے.
رمضان المبارك ميں جماع كرنے والے شخص كے بارہ ميں مستقل فتوى كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:
" اس پر ايك غلام آزاد كرنا واجب ہے، اگر اس كى استطاعت نہيں تو پھر وہ مسلسل دو ماہ كے روزے ركھے، اور اگر اس كى بھى استطاعت نہيں ركھتا تو ساٹھ مسكينوں كو كھانا دے، ہر مسكين كو ايك مد گندم دے، اور اس كو اس روزے كى بھى قضاء كرنا ہو گى.
ليكن عورت نے اگر تو يہ كام راضى و خوشى كيا تو اس كا حكم بھى مرد والا ہے، اور اگر عورت كو ايسا كرنے پر مجبور كيا گيا ہے تو اس پر صرف روزے كى قضاء ہو گى " انتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 302 ).
اور جب اس پر كفارہ واجب ہو اور آپ يہ كہہ رہے ہيں كہ وہ روزے ركھنے كى استطاعت نہيں ركھتى تو اس كو چاہيے كہ وہ ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلا دے.
مزيد آپ سوال نمبر ( 1672 ) كے جواب كا مطالعہ كريں اس ميں دن كے وقت رمضان ميں ہم بسترى كرنے كا كفارہ بيان كيا گيا ہے.
دوم:
اور آپ كے والد كے بارہ ميں يہ ہے كہ اس پر مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنا واجب تھے، اور جس دن ميں اس نے ہم بسترى كى اس روزہ كى قضاء كرنا تھى، اور جبكہ وہ فوت ہو چكا ہے اور ايسا نہيں كيا اس ليے يا تو اس كى جانب سے كوئى روزے ركھے اور مسلسل دو ماہ كے روزے ركھے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جو فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كى جانب سے اس كا ولى روزے ركھے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1147 ).
اور يہ دو ماہ كے روزے ايك سے زيادہ اشخاص ميں تقسيم كرنا جائز نہيں، بلكہ صرف ايك ہى شخص مسلسل دو ماہ كے روزے ركھے تا كہ يہ صادق آئے كہ اس نے دو ماہ كے مسلسل روزے ركھے ہيں.
يا پھر اس كى جانب سے ہر دن ايك مسكين كو كھانا كھلا دو.
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اگر ميت كے ذمہ دو ماہ كے مسلسل روزے ركھنا واجب ہوں، يا تو اس كے ورثاء ميں سے كوئى ايك شخص وہ روزے ركھے، يا پھر ہر ايك دن كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلا دے " انتہى
ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 453 ).
اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ اگر كوئى شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ رمضان كے فرضى روزے يا نذر يا كفارہ كے روزے ہوں تو اس كا ولى اس كى جانب سے جب چاہے روزے ركھے " انتہى
ديكھيں: فتاوى نور على الدرب ( 199 / 20 ).
اور شيخ سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" جس فوت شدہ شخص كے ذمہ رمضان المبارك كے روزے ہوں اور وہ تندرست ہو جانے كے باوجود روزے نہ ركھے تو اس كى جانب سے ہر روزے كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلانا واجب ہے جتنے روزے ہوں اتنے ايام كھانا كھلايا جائے.
اور شيخ تقى الدين ابن تيميہ كے ہاں يہ ہے كہ: اگر اس كى جانب سے روزے ركھے جائيں تو كفائت كر جائينگے، اور يہ قوى الماخذ ہے " انتہى
ديكھيں: ارشاد اولى البصائر و الالباب ( 79 ).
اور يہ كھانا كھلانا تركہ ميں سے واجب ہے، اور اگر كوئى شخص كھلا دے اور اپنے مال سے ادائيگى كر دے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.
واللہ اعلم .

blogger

شعبان كے آخر ميں عمرہ كا احرام باندھ كر رمضان ميں عمرہ كرنے كا اجر رمضان ميں عمرہ كے برابر ہوگا ؟

ايك شخص نے شعبان كے آخرى دن غروب آفتاب سے قبل عمرہ كا احرام باندھا اور مغرب كے بعد رمضان المبارك كا چاند نظر آنے كا اعلان كر ديا گيا، تو كيا اس كا يہ عمرہ رمضان ميں شمار ہوگا يا نہيں ؟ مقصد يہ كہ اس نے احرام كى نيت مغرب سے قبل كى تھى ليكن عمرہ تو رمضان المبارك كى رات ميں ہى كيا ہے تو كيا يہ عمرہ رمضان ميں شمار ہو گا يا نہيں ؟

الحمد للہ:
رمضان المبارك ميں عمرہ كرنے كا اجروثواب بہت زيادہ ہے جو كہ ايك حج كے برابر ہے.
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك انصارى عورت سے فرمايا:
" تجھے ميرے ساتھ حج كرنے سے كس چيز نے روكا؟
اس نے عرض كيا: ہمارے پاس صرف دو اونٹ تھے، ايك اونٹ پر بچے كے باپ اور بچے نے حج كيا، اور ايك اونٹ ہمارے ليے چھوڑ ديا جس پر ہم پانى لاتے تھے.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب رمضان آئے تو تم عمرہ كر لينا، كيونكہ رمضان المبارك ميں عمرہ كرنے كا ثواب ايك حج كے برابر ہے "
اور مسلم شريف كى روايت ميں ہے كہ:
" ميرے ساتھ حج كا ثواب ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1782 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1256 ).
مسلمان شخص كو يہ اجر عظيم حاصل كرنے كے ليے چاہيے كہ وہ رمضان المبارك ميں عمرہ كا احرام باندھ كر عمرہ بھى رمضان المبارك ميں ہى كرے، يہ نہيں كہ وہ شعبان كے آخرى دن احرام باندھے اور عمرہ رمضان ميں كرے، اور نہ ہى يہ كہ وہ رمضان المبارك ميں عمرہ كا احرام باندھے اور عمرہ كى ادائيگى شوال ميں كرے.
ان دونوں صورتوں ميں ہى ادا كردہ عمرہ رمضان المبارك ميں نہيں ہوگا.
پہلى صورت يہ ہے كہ:
عمرہ كا شعبان كے آخرى دن احرام باندھ كر رمضان المبارك كا چاند نظر آنے كے بعد عمرہ كى ادائيگى كرے.
دوسرى صورت:
رمضان كے آخرى دن غروب آفتاب سے قبل عمرہ كا احرام باندھا جائے اور عيد رات ميں عمرہ كى ادئيگى كى جائے.
شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" رمضان المبارك ميں عمرہ ادا كرنے والے كے ليے ضرورى ہے كہ اس كے عمرہ كى ابتدا اور انتہاء دونوں رمضان المبارك ميں ہوں، اس بنا پر ہم ايك اور مثال ديتے ہيں:
اگر كوئى شخص ميقات پر شعبان كے آخرى روز مغرب سے كچھ دير قبل پہنچے اور عمرہ كا احرام باندھے اور پھر غروب آفتاب كے بعد رمضان المبارك شروع ہو جائے تو وہ شخص مكہ پہنچ كر طواف اور سعى كرتا كے بال منڈواتا ہے تو كيا اس نے رمضان ميں عمرہ كيا ہے يا نہيں ؟
جواب:
اس نے رمضان ميں عمرہ نہيں كيا، كيونكہ اس كے عمرہ كى ابتدا رمضان المبارك شروع ہونے سے قبل ہوئى ہے.
تيسرى مثال:
ايك شخص نے رمضان المبارك كے آخرى دن غروب آفتاب سے قبل احرام باندھا اور عيد رات ميں عمرہ كى ادئيگى كى تو كيا اس كے بارہ ميں كہا جائيگا كہ اس نے رمضان المبارك ميں عمرہ كيا ؟
جواب:
نہيں اس نے عمرہ رمضان ميں نہيں كيا؛ كيونكہ اس نے عمرہ كا كچھ حصہ رمضان المبارك كے بعد كيا ہے، رمضان ميں عمرہ يہ ہے كہ اس كى ابتدا بھى رمضان ميں ہو اور انتہا بھى رمضان المبارك ميں ہو " انتہى
ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 21 / 352 – 353 ).
واللہ اعلم .
blogger

نماز توپڑھتا ہے لیکن رمضان المبارک کےروزے نہیں رکھتاتوکیا وہ کفرکا مرتکب ہورہا ہے ؟

کیا روزے ترک کرنے والا کافر ہے اگرچہ وہ نماز کی پابندی بھی کرتا ہواور بغیر کسی عذر اورمرض کے روزے نہ رکھے ؟

الحمد للہ 
جوبھی روزے کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے روزے نہ رکھے وہ بالاجماع کافر ہے ، اورجوبھی سستی اورکوتاہی کی وجہ سے روزہ نہ رکھے توبعض اہل علم اسے کافر قرار دیتے ہیں ، لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ کافر تو نہیں لیکن اسلام کا ایک رکن ترک کرنے کی وجہ سے وہ خطرے میں ہے کیونکہ اس نے ایک فرض ترک کیا ہے جس کی بنا پر وہ سزا کا مستحق ہے اورحکمران کی جانب سے اسے سزاملنی چاہیے تا کہ وہ اللہ تعالی کے ہاں توبہ کرتے ہوئے اس رکن پر عمل پیرا ہو ۔
واللہ تعالی اعلم ۔ .

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ ( 10 / 143 ) ۔

blogger

کفارہ ادا کرنے کا طریقہ

رمضان المبارک میں روزہ نہ چھوڑنے والے کا فدیہ وکفارہ ہردن دینا ہوگا یا کہ رمضان االمبارک گزرنے کے بعد ایک بار ہی سب ایام کا ادا کرسکتا ہے ؟

الحمد للہ 
جوکوئي رمضان المبارک کے روزے کسی دائمی عذر کی بنا پر نہيں رکھتا یعنی وہ عذر ختم ہونے کی امید نہیں ہے مثلا بوڑھا ہونا وغیرہ ، تواس حالت میں اسے ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا ، اوراسے اس میں اختیار حاصل ہے چاہے تو وہ روزانہ کھلاتا جائے یا پھر رمضان کے ختم ہونے کا انتظار کرے اوراس کے بعد ایام کی تعداد کے مطابق مساکین کو کھانا کھلادے ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
اوراس کا وقت – یعنی کھانا کھلانے کا وقت – اس کے اختیار کے مطابق ہے چاہے تو وہ ہر روز ساتھ ساتھ ہی فدیہ ادا کرتا جائے ، اوراگر چاہے تو اسے مہینہ کے آخر تک مؤخر کرسکتا ہے کیونکہ انس رضي اللہ تعالی نے بھی ایسے ہی کیا تھا ۔ ا ھـ دیکھیں شرح الممتع ( 6 / 335 ) ۔
واللہ اعلم .

blogger

منگل

آزادی کا مفہوم

(( عن نعمان بن بشیر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثل المدھن فی حدود اللہ والواقع فیھا مثل قوم استھموا السفینۃ فصار بعضھم فی اسفلھا وصار بعضھم فی علاھا ۔ فکان الذی فی اسفلھا یمر بالماءعلی الذین فی اعلاھا فتاذوا بہ فاخذ فاسا فجعل ینقر اسفل السفینۃ فاتوہ فقالوا مالک ؟ قال تاذیتم بی ولا بدلی من الماءفان اخذوا علی یدیہ انجوہ ونجو انفسھم وان ترکوہ اھلکوہ واھلکوا انفسھم )) ( رواہ البخاری )
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی حدوں میں سستی کرنے والے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ایک ( بحری جہاز ) کشتی پر سوار ہوتے ہیں اور انہوں نے قرعہ اندازی کے ذریعے اپنی اپنی جگہ متعین کر لی کچھ لوگ کشتی کے نچلے حصے میں اور کچھ اوپر والے حصے میں چلے گئے وہ لوگ جو نچلے حصے میں تھے وہ اوپر سے پانی لے کر اوپر والوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں اس کی تکلیف ہوتی ( جس کی بناءپر اوپر والوں نے نیچے والوں کو اوپر آنے سے روک دیا ) جس پر نیچے والوں نے کلہاڑا لے کر کشتی میں سوراخ کرنا چاہا تا کہ سمندر ( دریا ) کا پانی حاصل کر لیں ۔ اوپر والوں نے کہا تم کیا کر رہے ہو انہوں نے جواب دیا تمہیں میرے آنے سے تکلیف ہوتی ہے اور پانی کی مجھے بھی ضرورت ہے ۔ اگر وہ اس کا ہاتھ روک لیں تو اسے بھی بچالیں گے اور خود بھی بچ جائیں گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے تو اسے بھی ہلاک کر ڈالیں گے اور خود بھی ہلاک ہو جائیں گے ۔ ( بخاری باب الامر بالمعروف ، مشکوٰۃ ) اسلام کسی کی آزادی سلب نہیں کرتا مگر اسے آزاد بھی نہیں چھوڑتا کہ جو چاہے کرتا رہے ۔ اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہر چیز کو بڑھنے پھولنے کی اجازت ہے لیکن اگر تمام حدود کو پھلانگ کر اپنی مرضی کی جائے تو تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور برائی سے روکنا یہ آزادی کے منافی نہیں ہے ۔ روشن خیال اور بے غیرتی کو آزادی سمجھ لیا ہے جو کہ درست نہیں ایسی آزادی جس میں کوئی پابندی نہ ہو وہ نقصان اور تباہی کا باعث بنتی ہے ان حدود کی پابندی کرنا لازم ہے جو شریعت نے متعین کی ہیں ۔
 

blogger

مسنون اذکار مبارکہ

فضائل و فوائد ذکر الٰہی


آج جس پر فتن دور اور اقتصادی و معاشی بحران کے پرکٹھن مراحل سے ہم دو چار ہیں جس میں کتاب و سنت سے براہ راست راہنمائی کی ضرورت ہے لیکن ہم نے کتاب و سنت کو پسِ پشت ڈال کر صوفیا کے ملفوظات ، فیوض و برکات ، کشف و کرامات اور ان کے اوراد و وظائف کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے ۔ اور اس طرح محدثین کرام اور سلف صالحین کی دعوت توحید و سنت اور صوفیائے کرام اور ان کے متبعین کے معمولات کے مابین ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امت دو طبقوں میں تقسیم ہو گئی ۔ ایک طبقہ جس کی راہ کتاب و سنت کی تعلیم شرک و بدعت کی بیخ کنی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا علم بلند کرنا تھا ۔
دوسرا طبقہ جس نے خانقاہی نظام درویشی ، ترک دنیا اور عملی طور پر جہاد کرنے کی بجائے صرف اوراد و وظائف تک اپنے آپ کو محدود کر لیا جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ایک بڑا طبقہ مساجد اور مدارس کی دعوتی سرگرمیوں سے ہٹ کر صالحین کی قبروں ان کے عرسوں اور آثار و تبرکات ، سماع و رقص سے وابستہ ہوگیا ۔ صالحین کی قبروں پر جو جھرمٹ نظر آ رہا ہے اور منکرات و فواحشات اور شرک و بدعات کا جو سیل عظیم رواں دواں ہے وہ سب اسی شخصیت پرستی اور خانقاہی نظام کی پیداوار ہے ۔ ستم کی حد یہ ہے کہ عامۃ الناس انہی خرافات و فرسودات ، شرک و بدعات کو اصل دین سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور جو لوگ درحقیقت توحید و سنت کے علمبردار ہیں ان کو دشمن رسول سمجھتے ہیں یہ بہت بڑا المیہ ہے یہی ہماری ناکامی کا سبب ہے ۔

بقول شاعر 

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقیر خانقاہی سے فقط اندوہ و دلگیری
تیرے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی
اور یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری

وظائف و اوراد کو ضرور اپنائیے مگر مسنون طرز عمل کے ساتھ ۔ ذکر الٰہی سے ہی انسان خود کو شیطان لعین سے بچا سکتا ہے ۔ من گھڑت اور شرک و بدعات پر مبنی وظائف سے کلی طور پر اجتناب کیجئے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے دل دو چیزوں غفلت اور گناہ سے زنگ پکڑتا ہے اور دو چیزوں سے ہی زنگ دور کیا جا سکتا اور دل کو روشن کیا جا سکتا ہے ۔ استغفار اور ذکر الٰہی ۔
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے : ” ہر چیز کو چمکانے کیلئے کوئی نہ کوئی چیز ہوتی ہے لیکن دلوں کو ذکر الٰہی سے ہی چمکایا جا سکتا ہے ۔ “

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ مقولہ ہے کہ ذکر مومن کی جنت ہے جنتی محض دنیا کی جنت میں داخل نہیں ہو گا بلکہ اخروی جنت میں بھی داخل ہو گا ۔ ایام اسیری اور قید و بند کے دنوں میں فرمایا کرتے تھے کہ دشمن میرا کیا بگاڑیں گے ؟ میری جنت تو میرے سینے میں ہے جہاں جاؤ ں ساتھ ہے ۔ قید و بند میری خلوت ہے قتل میرے لیے شہادت ہے اور جلاوطنی میری سیاحت ہے ۔ ایام اسیری میں سجدہ کے اندر کثرت سے یہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔ 

(( اللھم اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک )) 

” الٰہی اپنے ذکر و شکر اور حسن عبادت پر میری مدد فرما ۔ “


علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیخ مجھ سے کہنے لگے محبوس وہ نہیں جسے قید کر دیا جائے ۔ بلکہ محبوس وہ ہے جس کا دل اپنے رب سے رک جائے ۔ اسیر وہ نہیں جو گرفتار ہو جائے بلکہ اسیر وہ ہے جو خواہشات کا اسیر ہو جائے ۔ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف کی طرف سفر کرتے ہوئے جمدان پہاڑ سے گزرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔ 
” مغردون سبقت لے گئے آپ سے پوچھا گیا اللہ کے رسول مغردون کون لوگ ہیں ؟ فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ۔ “ ( صحیح مسلم )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذکر الٰہی کے لیے کوئی قوم جب اور جہاں بیٹھتی ہے تو ملائکہ ان پر گھیرا ڈال لیتے ہیں اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا اپنی مجلس میں تذکرہ فرماتے ہیں ۔ ( صحیح مسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے ۔
ایک روایت صحیحین میں ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں ۔
میں اپنے بندے کے ظن کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے میں علم کے لحاظ سے اس کے پاس ہوتا ہوں اگر مجھے دل میں یاد کرے تو میں دل میں اسے یاد کرتا ہوں مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں ۔ میری طرف بالشت آئے تو میں ہاتھ برابر آتا ہوں ۔ ہاتھ بھر آئے تو میں دو ہاتھ برابر قریب آتا ہوں چل کر آئے تو میں دوڑ کر آتا ہوں ۔

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : 

(( اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قیل یا رسول اللہ وما ریاض الجنۃ قال حلق الذکر )) 

” جب تم جنت کے باغات سے گزرو تو وہاں سے کچھ کھایا کرو ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے استفسار کیا جنت کے کونسے سے باغات ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر الٰہی کے حلقے ۔ 
ذاکروں میں وہ ذکر افضل ہے جو صرف تسبیح پر ہی نہ رہے بلکہ مجاہد افضل ہے جو مجاہد ہی نہ بنا پھرے بلکہ ذکر الٰہی کا خاص خیال رکھے ۔


قرآن حکیم میں ارشاد خداوندی ہے : 

(( یاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنوا اِذَا لَقِیتُم فِئَۃً فَاثبُتُوا وَاذکُرُوا اللّٰہَ کَثِیرًا لَّعَلَّکُم تُفلِحُونَ )) ( الانفال : 53 ) 

” اے ایمان والو ! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو ۔ “


ذکر کثیر کے متعلق متفرق مقامات پر اللہ کریم نے ذکر فرمایا ہے : 

(( وَاذکُرنَ مَا یُتلٰی فِی بُیُوتِکُنَّ مِن اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالحِکمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیفًا خَبِیرًا )) ( الاحزاب : 34 )

” اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو یقینا اللہ تعالیٰ لطف کرنے والا خبردار ہے ۔ “


مزید ارشاد فرمایا : 

(( وَالذَّاکِرِینَ اللّٰہَ کَثِیرًا وَّالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُم مَّغفِرَۃً وَّاَجرًا عَظِیمًا )) ( الاحزاب : 35 ) 

” بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ان ( سب کے ) لیے اللہ تعالیٰ نے ( وسیع مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ “

امام بیہقی رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان پر جو گھڑی خالی گزری وہی قیامت کو حسرت کا موجب ہوگی ۔ “
امام بیہقی رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مرفوعا حدیث ذکر فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ہر شئے کیلئے صیقل ہے دلوں کی صیقل ذکر الٰہی ہے ۔ عذاب الٰہی سے بچانے کیلئے انسان کیلئے ذکر الٰہی سے زیادہ کوئی چیز بہتر نہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا جہاد فی سبیل اللہ سے بھی ؟ فرمایا خواہ تلاور مارتے مارتے خود ہی شہید و پرزہ پرزہ کیوں نہ ہو جائے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے پاس جانے کا اتفاق ہوا آپ نے نماز فجر ادا کی پھر وہیں بیٹھ گئے تقریبا دوپہر تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے ذکر سے فارغ ہو کر میری طرف التفاف فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں یہ تو میرا ناشتہ ہے اگر یہ ناشتہ نہ کروں تو یقینا میری قوت سلب ہو جائے ۔ ( ذکر الٰہی حافظ ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہیبت و جلال الٰہی سے جو تم اس کی تہلیل و تکبیر اور تحمید کرتے ہو وہ اللہ کے عرش کے گردونواح گھومنے لگ جاتا ہے اور شہد کی مکھیوں کی طرح آواز کرتی ہیں اور اپنے فاعل کو یاد کرتی ہیں کیا تمہیں پسند نہیں کہ تمہیں بھی کوئی چیز عرش الٰہی کے پاس یاد کرے اور تمہارا تذکرہ کرے ؟ ( مسند امام احمد )
ذکر الٰہی سے اللہ جل شانہ ذاکر کیلئے جنت میں درخت لگا دیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے اے محمد میری طرف سے اپنی امت کو سلام دینا اور کہنا جنت کی زمین بھی نہایت اعلیٰ ہے اور اس کا پانی بھی میٹھا ہے اور بے نمکین ہے ۔ مگر وہ صاف چٹیل میدان اور اس کے پودے ہیں ۔ سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر ( ترمذی )
ذکر الٰہی سے جو انعامات حاصل ہوتے ہیں وہ دیگر اعمال سے نہیں ہوتے ۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص روزانہ سو مرتبہ ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر “پڑھے اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور صبح سے شام تک وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال سے بڑھ کر کسی کا عمل افضل نہیں ہوتا الا یہ کہ اس سے بڑھ کر کوئی عمل کرے ۔ اور جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے تمام گناہ خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں معاف ہو جاتے ہیں ۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی مثال ہے ۔

ذکر الٰہی سے انحراف اپنے نفس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے ، قرآن حکیم میں ارشاد ہے : 

(( وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم اُولیکَ ھُمُ الفٰسِقُونَ )) ( حشر :19 ) 

” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ ( کے احکام ) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا ۔ اور ایسے ہی لوگ نافرمان ( فاسق ) ہوتے ہیں ۔ “


جو لوگ ذکر الٰہی سے اعراض اور انحراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی معیشت کو تنگ کر دیتا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے : 

(( وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فَاِنَّ لَہ مَعِیشَۃً ضَنکًا وَّنَحشُرُہ یَومَ القِیٰمَۃِ اَعمٰیo قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنِی اَعمٰی وَقَد کُنتُ بَصِیرًا oقَالَ کَذٰلِکَ اَتَتکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیتَہَا وَکَذٰلِکَ الیَومَ تُنسٰی )) ( طٰہ : 124-126 ) 

” اور ( ہاں ) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اور ہم اسے روز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا یا الٰہی مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھتا تھا ۔ ( جو اب ملے گا کہ ) اسی طرح ہونا چاہئیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے ۔ “

اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ قلق و اضطراب ، بے چینی اور بے کلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں ۔ اس تنگ زندگی کی عذاب برزخ سے بھی تفسیر کی گئی ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ دینوی معیشت کو بھی شامل ہے اور برزخی حالت کو بھی ۔ کیونکہ برزخی حالت میں انسان دنیا و برزخ دونوں جہان کی تکلیف برداشت کرتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب میں ڈال کر فراموش کیا جائے گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے تھے ۔ ( بخاری کتاب الاذان ، مسلم کتاب الحیض باب ذکر اللہ فی حال الجنابۃ ص162 ج1 )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر الٰہی کیلئے کوئی مقرر نہیں ذکر کرنے والا جب جس وقت اور جس حالت میں چاہے اللہ کا ذکر کر سکتا ہے ۔
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے احکام کی مجھ پر کثرت ہو چکی ہے ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ( آسان سی ) چیز بتا دیں جس پر میں عمل کرتا رہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئیے ۔ ( ابن ماجہ کتاب الادب باب افضل الذکر ص277 مسند احمد ص188 ج4 )
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل دعا الحمد للہ ہے ۔ ( ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل الحامدین ص 278 ، مستدرک ص 498 ج 1 )
کلمہ توحید کا ورد تمام اذکار سے بہتر ہے اور الحمد للہ کا ورد تمام دعاؤ ں سے بہتر ہے اس لیے کہ یہ دونوں کلمے اللہ تعالیٰ کی توحید اور تحمید پر مشتمل ہیں ۔ بعض حضرات کلمہ افضل الذکر لا الہ الا اللہ میں محمد رسول اللہ کا اضافہ بھی کرتے ہیں جو کسی حدیث سے ثابت نہیں ، نہ ہی مذکورہ حدیث میں اس کا ذکر ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قوم اللہ کا ذکر کرتی ہے تو فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکونت نازل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ( بطور فخر ) ان کا تذکرہ اپنے فرشتوں سے کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں ۔ ( مسلم کتاب الذکر والدعاء )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ اپنی مجلس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیجتے ہیں تو ایسی مجلس باعث حسرت اور نقصان دہ ہوتی ہیں ۔ اللہ اگر چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے ۔ ( مسند احمد ص 246 ج 2 )
حافظ ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ نے ذکر الٰہی کے بہت سے فوائد اپنی کتاب ذکر الٰہی میں تحریر فرمائے ہیں جنہیں انتہائی اختصار کے ساتھ قارئین کرام کی نظر کیا جاتا ہے ۔ ذکر الٰہی شیطان کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے ، ذکر الٰہی سے اللہ راضی ہو جاتا ہے ، ذکر الٰہی غموں اور پریشانیوں کا علاج ہے ، ذکر الٰہی سے دل میں مسرت اور خوشی پیدا ہوتی ہے ، ذکر الٰہی سے بدن کو تقویت ملتی ہے ، ذکر الٰہی سے انابت ( رجوع الی اللہ ) حاصل ہوتی ہے ، ذکر الٰہی سے تقرب الٰہی حاصل ہوتا ہے ، ذکر الٰہی سے معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، ذکر الٰہی سے دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کے ساتھ ساتھ ہیبت اور عظمت و توقیر و جلال کا سکہ بیٹھتا ہے ، ذکر الٰہی سے اللہ عزوجل آسمانوں میں ذاکر کا تذکرہ کرتے ہیں ، ذکر الٰہی سے دل کو زندگی اور تازگی نصیب ہوتی ہے ، ذکر الٰہی سے دل کا زنگ اتر جاتا ہے ، ذکر الٰہی سے اللہ تعالیٰ کا جن کلمات سے ذکر کرتا ہے وہی اذکار مصائب و آلام اور تکلیف کے وقت اس کا ذکر کرنے لگتے ہیں ۔ ذکر الٰہی سے اللہ تنگدستیاں دور فرما دیتا ہے ، ذکر الٰہی سے دل کو قرار اور اطمینان نصیب ہوتا ہے ، ذکر الٰہی سے انسان لغویات سے محفوظ رہتا ہے ، ذکر الٰہی کی مجالس فرشتوں کی مجلسیں ہوتی ہیں ، ذکر الٰہی سے ذاکر نیک اور سعید ہو جاتا ہے ، ذکر الٰہی کی وجہ سے انسان قیامت کے دن حسرت سے مامون رہے گا ، ذاکر کو ذکر الٰہی کی برکت سے وہ نعمتیں مل جاتی ہیں جو مانگ کر لینے سے بھی نہیں ملتیں ، ذکر الٰہی تمام تر عبادات سے آسان اور افضل ہے ، ذکر الٰہی سے جنت میں درخت لگتے ہیں ، ذکر الٰہی سے دنیا میں بھی نور قبر میں بھی نور ، آخرت میں بھی نور حاصل ہو گا ۔ ذکر الٰہی سے دل بیدار رہتا ہے ، ذکر الٰہی قرب خداوندی اور معیشت الٰہی کا ذریعہ ہے ، ذکر الٰہی صدقہ و جہاد سے افضل ہے ، ذکر راس الشکر ہے ، ذکر الٰہی سے دل کی قساوت نرمی میں تبدیل ہو جاتی ہے ، ذکر الٰہی دل کی دوا اور قلب کی شفا ہے ، ذکر الٰہی محبت الٰہی کا حصول ہے ، ذکر الٰہی ہر قسم کے شکر سے اعلیٰ ترین شکر ہے جو مزید نعمت کا باعث ہے ، ذکر الٰہی اللہ کی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤ ں کا موجب ہے ، مجالس ذکر جنت کے باغات ہیں ، مجالس ذکر فرشتوں کی مجلسیں ہیں ، اہل ذکر سے اللہ تعالیٰ ملائکہ میں فخر فرماتے ہیں ، ذکر الٰہی پر ہمیشگی کرنے والا مسکراتے ہوئے جنت میں جائے گا ۔ ( قول ابودرداء رضی اللہ عنہ )
تمام اعمال ذکر الٰہی کو دوام اور ہمیشہ باقی رکھنے کیلئے ہیں ، مقابلہ اعمال میں ذکر الٰہی کرنے والے جیت جائیں گے ۔ ذکر انسان اور جہنم کے درمیان دیوار بن جاتا ہے ، فرشتے ذاکر کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جیسا کہ تائب کیلئے دعاءمغفرت فرماتے ہیں ۔ کثرت کے ساتھ ذکر کرنے سے نفاق سے نجات نصیب ہو جاتی ہے ، ذکر الٰہی کی لذت تمام لذات سے بہتر لذت ہے ، کثرت ذکر سے گواہوں کی کثرت ہوتی ہے ۔ ذکر الٰہی سے شیطانوں میں گھرے ہوئے آدمی کو نجات مل جاتی ہے ۔
ذکر الٰہی سے بے حد قوت حاصل ہوتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی کی مشقت اور دیگر معمولات کی زیادتی و تکالیف کی شکایت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم طلب فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو خادم دینے کی بجائے رات کو سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھنے کا ارشاد فرمایا ۔ اور فرمایا خادم کی بجائے یہ کلمے تمہارے لیے بہتر ہیں ۔
اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ہمیں ہر ، لمحہ ہر موڑ پر ذکر الٰہی کا ہی درس دیا ہے ۔ گھر سے نکلیں تو دعا بازار جائیں تو دعا ، سواری پر سوار ہوں تو دعا ، شہر میں داخل ہوں تو دعا ، پانی پئیں تو دعا ، کھانا کھانے سے فارغ ہوں تو دعا ، مسجد میں داخل ہوں تو دعا اور نماز تو دعاؤ ں کا مجموعہ ہے ۔ مسجد سے باہر نکلیں تو دعا لباس پہنیں تو دعا ، الغرض جملہ عروسی میں جانے کی دعا ۔ دین اسلام نے انسان کو کسی بھی موڑ پر بے رہبر و نہیں چھوڑا ہر مقام پر ذکر الٰہی کی تلقین کی ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہئیے ہم ہمہ وقت ذکر الٰہی میں مشغول و مصروف رہیں اسی میں کامیابی ہے ۔

قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے : 

(( والذاکرین اللہ کثیرا والذاکرات اعد لھم مغفرۃ واجرا عظیما )) 

” کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والوں اور یاد کرنے والیوں کیلئے رب کائنات نے بخشش کے ساتھ اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ “ 
اس لئے فارغ اوقات میں ہمیں اللہ سے لو لگانی چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : 

(( فاذا فرغت فانصب والی ربک فارغب )) ( الشرح ، 7,8 ) 

” پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا ۔ “ 

اللہ تعالیٰ ہمیں ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
blogger

قیامت کے روز گواہی

وجاہدوا في اللہ حق جہادہ ھو اجتبکم وما جعل عليکم في الدين من حرج ملۃ ابيکم ابرہيم ھو سمکم المسلمين من قبل وفي ھذا ليکون الرسول شہيدا عليکم وتکونوا شہدآء علي الناس فاقيموا الصلو واتوا الزکو واعتصموا باللہ ھو مولکم فنعم المولي ونعم النصير ( الحج )
” اور اللہ کی راہ میں ایسی کوشش کرو جیسا کہ اس کا حق ہے اس نے تمہیں منتخب کیا اور دین کے بارے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کی وہ دین تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے انہوں نے ہی اس سے پہلے اور اس میں تمہارا نام مسلمان رکھا تا کہ رسول تم پر اور تم عام لوگوں پر گواہ بنو ۔ پس تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کے احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھو وہی تمہارا آقا ہے پس اچھا ہے آقا اور اچھا ہے مددگار ۔ “
رب کریم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ دین کی سربلندی اور اپنی نجات کے لئے ہر وہ کوشش کریں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ، یہاں جہاد سے مراد صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہی نہیں ہے بلکہ نظریاتی ، اخلاقی اور دینی روایات کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے بھی جہاد کرنا ہے اس کام کے لئے اللہ نے مسلمانوں کو منتخب کیا ہے اور فرما دیا کہ تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی بلکہ ہر مسلمان اپنی ہمت کے مطابق اس کوشش میں لگا رہے کہ دین کا غلبہ ہو جائے ۔ یہی وہ دین ہے جس کا پرچار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کیا انہوں نے ہی تمہارا نام مسلمان رکھا ۔ مسلمانوں کی یہ عظمت ہے کہ اللہ نے انہیں گواہ بنایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر گواہ ہوں گے ۔
قیامت کے دن جب تمام انبیاءکرام اور ان کی امتیں اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے تو امت محمدیہ کے افراد اس بات کی گواہی دیں گے کہ اسے اللہ ان لوگوں نے اپنے نبی کے احکامات کی مخالفت کی تھی تو وہ لوگ کہیں گے کہ آپ ہمارے خلاف کس طرح گواہی دے سکتے ہیں نہ آپ لوگوں نے ہمارا زمانہ دیکھا اور نہ ہی آپ ہمارے نبی کے امتی ہیں تو امت محمدیہ کے افراد جواب دیں گے اللہ نے ہمارے نبی پر قرآن نازل کیا جس میں لکھا ہے کہ فلاں قوم نے اپنے نبی کے احکامات اور ان کی تعلیمات کی مخالفت کی جس پر ہمارا ایمان ہے اس بنا پر ہم گواہی دے رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے کہ میری امت سچ کہتی ہے اے امت محمدیہ کے افراد اس عظیم مرتبے کو حاصل کرنے کے لئے تم نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کے احکامات کو مضبوطی سے تھام لو ۔ وہی تمہارا بہترین آقا و مددگار ہے ۔ اللہ کی توفیق سے سورۃ الحج کا درس مکمل ہوا 

blogger

ہفتہ

موت كے فرشتے كا استہزاء كرنا

كچھ عرصہ قبل ميرے ايك جاننے والے كا قريبى فوت ہو گيا، اور اس سے كچھ مدت بعد اس كا ايك اور قريبى فوت ہو گيا، طويل عرصہ بعد جب ہم ان كے متعلق باتيں كر رہے تھے تو ميں نے بغير ارادہ و قصد كيے ان كے متعلق بطور مزاح كہا لگتا ہے تمہارے خاندان اور موت كے فرشتے كے درميان كوئى دشمنى ہے، تو كيا يہ اللہ كے ساتھ كفر شمار تو نہيں ہوتا؛ كيونكہ ميں نے يہ بات اللہ كے فرشتوں ميں سے ايك فرشتے كے متعلق بات كہى تھے آيا يہ كفر ہے يا كچھ اور، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟
الحمد للہ:
مسلمان كے ليے اپنى زبان كى حفاظت كرنا واجب ہے، اس ليے اسے زبان سے كوئى ايسى بات نہيں نكالنى چاہئے جو اللہ كے غضب كا باعث ہو، كيونكہ انسان كوئى اپنى زبان سے ايسى بات نكال ديتا ہے جس كے متعلق اس كا گمان بھى نہيں ہوتا كہ اس كى كوئى وقعت ہو گى اور وہ اس كى ہلاكت اور عذاب كا باعت بن جاتا ہے، اللہ اس سے محفوظ ركھے.
ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" بندہ كوئى كلمہ نكالتا ہے جس پر غور نہيں كرتا جس سے وہ آگ ميں گر جاتا ہے جو مشرق كے درميان فاصلہ سے بھى زيادہ ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 6477 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2988 ).
اور ترمذى كى روايت ميں ہے:
" آدمى كوئى كلمہ كہتا ہے جس ميں كوئى حرج نہيں سمجھتا اور وہ اس كى بنا پر ستر برس تك آگ ميں جا گرتا ہے "
سنن ترمذى حديث نمبر ( 2314 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور بلال مزنى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم ميں كوئى ايك ايسا كلمہ كہتا ہے جو اللہ كى ناراضگى كا باعث ہوتا ہے، اور وہ اس كے متعلق گمان بھى نہيں كرتا كہ وہ اسے كہاں لے جائيگا، تو اللہ تعالى اس كے باعث قيامت تك ناراضگى لكھ ديتا ہے "
سنن ترمذى حديث نمبر ( 2319 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں صحيح قرار ديا ہے.
فرشتوں پر ايمان ركھنا اور ان كى تعظيم اور بزرگى ايمان كے چھ اركان ميں شامل ہوتا ہے، اور پھر موت كا فرشتہ تو وہى كچھ كرتا ہے جو اللہ اسے حكم ديتا ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور وہى اپنے بندوں كے اوپر غالب و برتر ہے، اور تم پر نگہداشت ركھنے والے بھيجتا ہے يہاں تك كہ جب تم ميں كسى كو موت آ پہنچتى ہے اس كى روح ہمارے بھيجے ہوئے فرشتے قبض كر ليتے ہيں اور وہ ذرا كوتاہى نہيں كرتے }الانعام ( 61 ).
يہ فرشتے تو اللہ كى جانب سے پرحكمت تقدير كے تم پر مقرر ہيں نہ كہ يہ كوئى دشمنى اور بدلہ لينے يا انتقام كى وجہ سے ہے ـ اللہ تعالى اس سے بلند و بالا اور منزہ ہے ـ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ كہہ ديجئے تمہيں موت كا فرشتہ فوت كريگا جو تم پر مقرر كيا گيا ہے، پھر تم سب اپنے پروردگار كى طرف لوٹائے جاؤگے }السجدۃ ( 11 ).
اور پھر اہل علم نے بيان كيا ہے كہ فرشتوں كے ساتھ استہزاء كرنا يا كسى ايك فرشتے كا استہزاء كفر اور دين اسلام سے خارج ہونا ہے، اس كى دليل ميں يہ آيت پيش كرتے ہيں:
{ اگر آپ ان سے پوچھيں تو صاف كہہ دينگے كہ ہم تو يونہى آپس ميں ہنسى مذاق كر رہے تھے، كہہ ديجئے كہ اللہ اور اس كى آيات اور اس كا رسول ہى ہنسى مذاق كے ليے رہ گئے ہيں ؟ }
{ تم بہانے نہ بناؤ يقينا تم نے ايمان كے بعد كفر كيا ہے، اگر ہم تم ميں سے كچھ لوگوں سے درگزر بھى كر ليں تو كچھ لوگوں كو ان كے جرم كى سنگين سزا بھى ديں گے }التوبۃ ( 65 - 66 ).
ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" بالنص يہ ثابت ہے كہ جو كوئى بھى اللہ تعالى، يا كسى فرشتے يا كسى نبى ( عليہ السلام ) يا قرآن مجيد كى آيت يا دين كے كسى فريضہ جو كہ سب اللہ تعالى كى آيات ہيں دليل پہنچ جانے كے بعد استہزاء اور مذاق كريگا تو وہ كافر ہے " انتہى
ديكھيں: الفصل فى الملل و الاھواء و النحل ( 3 / 142 ).
اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:
" ہر وہ شخص جو اللہ تعالى پر سب و شتم كرے، يا اس استہزاء كرے، يا كسى فرشتے پر سب و شتم يا اس كا استہزاء كرے، يا كسى نبى پر سب و شتم كرے يا استہزاء كرے، يا اللہ كى آيات ميں سے كسى آيات كے ساتھ استہزاء اور اس پر سب و شتم كرے، سب اسلامى قوانين اور قرآن مجيد اللہ كى آيات ہيں تو وہ اس كے ساتھ كافر ہو جائيگا، اور وہ مرتد ہے اس كا حكم بھى مرتد والا ہے " انتہى
ديكھيں: المحلى ( 11 / 413 ).
اور ابن نجيم حنفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" كسى فرشتے كى عيب جوئى كرنے يا اس كى توہين كرنے سے كافر ہو جائيگا " انتہى
ديكھيں: البحر الرائق ( 5 / 131 ).
بلكہ بعض علماء كرام نے تو يہ بيان كيا ہے كہ اگر كوئى شخص ايسى كلام كرے جس ميں صرف استہزاء اور سخريہ محسوس ہو تو وہ كافر ہو جائيگا.
ابن نجيم حنفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اور وہ كسى دوسرے كو يہ بات كہنے سے بھى كافر ہو جائےگا كہ: ميں تجھے اس طرح ديكھتا اور سمجھتا ہوں جيسے كہ موت كا فرشتہ ہو " بعض كے ہاں اور اكثر كے ہاں اس ميں اختلاف ہے " انتہى
آپ نے جو كلام كى ہے اس ميں موت كے فرشتے سے كچھ نہ كچھ استہزاء پايا جاتا ہے، اس ليے آپ كو اس پر توبہ و استغفار كرنى چاہيے، اور اللہ سے معافى طلب كرنى چاہيے، اور آئندہ عزم كريں كہ اس طرح كى بات دوبارہ نہيں كرينگے، اور كلمہ شہادت پڑھ كر اپنے ايمان كى تجديد كريں، اور اعمال صالحہ كثرت سے كريں ـ صدقہ وغيرہ ـ اللہ سبحانہ و تعالى توبہ كرنے والے كى توبہ قبول فرماتا ہے.
واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب

blogger